Feb 10,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Hosts & guests
Transcript ready
524 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 10,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
आुम श्रिसेत कुरो परमात मने नमाहा. श्रियोक वसेश्त माहरा माहना, एद पती प्रक्रना, सर्ग सत्तावन. डाजा बुले हे ञशसी, जैसे सुर्या दिक, सचदश वर्बुले प्रकषते है. अन्ड सचदवापु कुछनत है. अडससतईसे ही बुले हो आपया है. आप्र जरदे बुत होते है. शूद्त जनमात तरसता प्रकषर। त है. आपीद नहीं नहीं ये स्चदा एक अप में स्चते है. اس چید انو کے بھیتر باہر پرکاش ہے اور یہ جو سوریا چندرمہ اگنی آگنی پرکاش ہے سو تم سے ملے ہوئے ہیں ارثات بھیڑ روب ہے
یہ بھی تم روب ہے کیوں کی پرکاش کی اب ایک شارکتے ہیں اس میں اتنا بھیڈ ہے کی پرکاش شکل روب ہے اور تم قرشنا روب ہے اسے رنگ کا بھید ہے پرکاش روب کوئی نہیں ہے جیسے میگ کا کوئیرا شام ہوتا ہے اور براپ کا شکل ہوتا ہے پر دونوں کوئی رہے ہیں تیسے ہی تم اور پرکاش دونوں تلے ہیں اور اتماستہ دونوں کو پرکاش دی ہے اسے دونوں کا اشرای ہوت اتماستہ ہی ہے ایراکشسی راتری دین بھیتر باہر ندیا پاہر آدیک سب لوگ اتماستہ کے پرکاش سے ہی پرکاش دے ہیں جیسے کمل اور نیلوط پل
دونوں کو سوریہ پرکاش دے ہیں کمل شویت ہے اور نیلوط پل شام ہے جہشویت کمل ہے وہاں نیلوط پل کا ابھاو ہے اور جہنیل کمل ہے وہاں شویت کمل کا ابھاو ہے پر دونوں کو پرکاش رکھ سوریہ ہے تیسے ہی تم اور پرکاش دونوں کو پرکاش رکھ چیداتما ہے جیسے راتری اور دین دونوں سوریہ سے سدھا ہوتے ہیں تیسے ہی تم اور پرکاش دونوں آتما سے سدھا ہوتے ہیں جیسے دین تب کہتا ہے جب سوریہ دے ہوتا ہے اور جب سوریہ سدھا ہوتا ہے تبراتری ہوتے ہیں آتما تیسے بھی نہیں آتما پرکاش سدھا ہوتا ہے
اور اُدھایاست سے رہید بھی ہے اس بنا کچھ سدھا نہیں ہوتا سب کا پرکاشہ چید آنو ہی ہے ہی رکشیسی اس آنو کے بھیتر بچیترا آنو بھاو آنو ہے جیسے وسندھرتوں میں پترا فول فل اور تاز ہوتے ہیں تیسے ہی چید آنو میں سب آنو بھاو آنو ہوتے ہیں جیسے ایک بیج سے آنیک ورکش کرام سے ہو جاتے ہیں تیسے ہی ایک چید آنو سے آنیک آنو بھاو آنو ہوتے ہیں کئی ویتیت ہوئے ہیں کئی ورتمان ہیں اور کئی ہوگئے جیسے سمجھر میں ترنگ ہوتے ہیں سو کوئی اب برطتے ہیں اور کئی آگے ہوگئے تیسے ہی آتما میں تینو کالکے سرشتی برطتے ہیں
ہی رکشیسی چید آنو آتما او دا سین ہے اور آسین کی نائیس تھیت ہوتا ہے سب کا کرتا بھی ہے اور بھکتا بھی ہے اور سپرش کسی سے نہیں کیا جاتا جگت کی ستتتا او اسی سے او دائے ہوتے ہیں اس کارنوہ سب کا کرتا ہے اور سب کا اپنا آپ ہے اس سے سب کو بھکتا ہے واستو میں نہ کچھ اوب جا ہے اور نہ لین ہوتا ہے جنمات رسطات جون کی جون سداف نے آپ میں ستے ہیں اور اکھنڈ اور سکشم ہے اس کارن کسی سے اسپرش نہیں کیا جاتا ہے ہی رکشیسی جو کچھ جگت دکتا ہے و سب آتما روب ہے
آتما اور جگت میں کچھ بھیت نہیں آتما اور جگت کہنے ماتر کو دونوں نام ہے واستو میں ایک آتما ہی ہے آتما کا چمتکار ہے جگت روب ہو کر بہاستہ ہے واستو میں جگت کچھ بنا نہیں جنمات رسطات سداف نے آپ میں ستے ہیں جو کچھ کہنا ہے وہ دیش کے نیمت تے ہیں واستو میں دوسری کچھ بس تو نہیں بنی تینوں جگت جدا کا شروف ہے ہی رکشیسی درشتا جب درشتشپت کو پر آپت ہوتا ہے تب سوابھا بھیک ہی اپنے بھاو کو نہیں دیکھتا جیسے نیترے جب گھت کو دیکھتا ہے تب گھت ہی بھاستہ ہے
اپنا نیترت بھاو نہیں درشتی آتا تیسے ہی درشت کے ہوتی درشتا نہیں بھاستہ اور جب درشنشت ہوتا ہے تب درشتا بھی آو آست ہو ہے کیونکہ درشتا بھی درشت کے سمندھ سے کہتے ہیں جب درشنشتا ہوتا ہے تب درشتا کس کو کہی ہے درشت بیشے بھوت وہ ہوتا ہے جو ادرشت ہے وہ بیشے بھوت کسی کا نہیں اس کارن اس میں کوئی کلپنا نہیں بنتی اور یہ جگد بھی اس کا ہی آبہ سے ہے ہی رکشتی ہیں جیسے بھکتا بھی نہ بھوک نہیں ہوتے تیسے درشتا بھی نہ درشت نہیں ہوتا
جیسے پیتا بھی نہ پوتر نہیں ہوتا تیسے ہی ایک بھی نہ دویت نہیں ہوتے ہی رکشتی درشتا کو درشت اب جانے کی سامر تھے درشت کو درشتا اب جانے کی سامر تھے نہیں کیوں کی درشت جڑ ہے جیسے سوبرنا سے بھوشن بنتا ہے پر بھوشن سے سوبرنا نہیں بنتا تیسی درشتا سے درشتا ہوتا ہے درشت سے درشتا نہیں ہوتا ہی رکشتی سوبرنا میں جیسے بھوشن ہے تیسی درشتا میں جو درشتا ہے و بھا مروپ ہے
اسی سے جڑ روب ہے جب درشتا درشتا کو دیکھتا ہے تب درشت درشتا ہے درشتت و بھاں نہیں بھاستا و جب درشتاپ نے سوبرنا میں ستتھ کو دا ہے تب درشت نہیں بھاستا جیسے جب تک بھوشن بنتی ہوتی ہے تب تک سوبرنا نہیں بھاستا بھوشن نہیں باستا ہے و جب سوبرنا کا گیان ہوتا ہے تب سوبرنا بھاستا ہے بھوشن نہیں بھاستا ایک ستھا میں دونوں نہیں ستھ دہوتے کی cinthakar may kesai purush ko deit ka haber ocean me pushwat Karthood Allow me u smashwat war sahf bham.. к highways. then the
جیسے رسسی کے گیان سے سرپکہ آبھا ہو جاتا ہے تیسے ہی بوڑھ کر کے درشکہ آبھا ہوتا ہے تو ایک ہی پرمات مصدتہ بھاستی ہے درشٹہ سنگیا بھی نہیں رہیتے جیسے دوسری کی اپیکشہ سے ایک کہتا ہے اور دوسری کے آبھا سے ایک نہیں رہت کہتے ہیں تو ایسے درشٹہ کے آبھا سے درشٹہ کہنہ نہیں رہتا ہے کہوال شدھ سمیت ماترپادشیش رہتا ہے جس میں وانی کی گاتی نہیں جیسے دیپک پدارتوں کو پرکاشتا ہے تو ایسے درشٹہ درشٹھن اور درشٹھ کو پرکاشتا ہے اور بود سے ماتر مان اور مییا ٹریپوتی لین ہو رہتے ہیں
جیسے صورنہ کے جاننے سے بھوشن کی کلپنہ کافہ ہو جیتا ہے تیسے ہی گان سے ٹریپوتی کافہ ہو جیتا ہے کہوال شدھ ادوی طروب رہتا ہے ہی راکشی سید پر مانو جو اتنطن نصفاد روب ہے وہ صرف صوادوں کو اوب جاتا ہے جہر رس سید ہوتا ہے وہ چید انو کر کے ہوتا ہے جیسے آدر شبینا پرتی بھی منا نہیں ہوتا تیسے ہی سب صواد چید انو بھی نہ نہیں ہوتا ہے سب کو رس دے نبالا چید انو ہی ہے اتم بھاہ سے سب کا دشتان ہے اور سکشما سے سکشما ہے اسے نصفاد ہے
وہ چید انو آپ کو چھپانے ہی سکتا سب جگت کو اس نے دھاپ رکھا ہے اور آپ کسی سے دھاپانے ہی جاتا یہ چدا کا شروب ہے سب پدارتوں کو ستتا دینے والا ہے اور سب کا آشرے ہوتا ہے جیسے گھاس کے بن میں ہاتھی نہیں چبتا تیسے ہی آتما کسی پدارت سے نہیں چبتا ہی راکشی جیسے سب پدارت سے دھا ہوتے ہیں اور جد جو سدا براکہ شروب ہے وہ مرکھوں کی نائب بھاستا مرکھوں کو نہیں بھاستا یہی براش چید ہے وہ سدا نو بھوروب ہے اور یہ جگت اُس ہی سے جتا ہے
جیسے وسندھ رتو سے فول فلٹاز اور پترا فلتے ہیں تیسے ہی سب جگت آتما سے فلتا ہے وہی جد آتما جگت روب ہو کے بھاستا ہے اور سروات مبھاو سے سب اُس کے ہی آویوں ہے پر مارتا نی رویوں اور نراکار ہے اُس میں کچھ اُدائی نہیں ہوا ہے حیراکشی ایک نیمیش کے آبود سے چید انوں میں انے کلپو کانو بھا ہوتا ہے جیسے ایک کشان کے سپنا میں پہلے بالک کو بالک اور پھر برد دھا وستہ دیکھنے نکتا ہے اُن کلپو میں جو نیمیش ہے
اُس میں انے کلپو بھتیت ہوتے ہیں کیونکہ دھیستان سروے شکتی مان ہے جیسا سمیدن جہا فورتا ہے ویسا روب ہو کے بھاستا ہے جیسے سوپنا میں ابھکتا کو بھکتت کا انو بھا ہوتا ہے تیسی نیمیش میں کلپا کانو بھا ہوتا ہے واسنا سے آبشتیت ابھکتا ہے آپ کو بھکتا دیکھتا ہے جیسے سوپنا میں منوششہ اپنا مرن پتکش دیکھتا ہے تیسی یہ جگت بھرم سے بھاستا ہے ایراکشیسی جو کچھ آکار بھاستے ہے بھرمتر ہے جیسے نیرمال آکاش میں نیلتا بھاستی ہے
تیسی ہی آتما میں بشفا بھاستا ہے آتما سروگت اور سپ کا نو بھاو ہے ایراکشیسی اس میں ویاپگ بھاو بھی نہیں کیونکہ سروگ آتما ہے اور سروگ روب بھی بھی ہے جب سدھ جتت سمیت سمیدن میں فرتا ہے تب پرتھاک پرتھاک بھاو بھاچتا ہے ایچھا سے جس پدارتا کی اپلب دی ہوتی ہے اس میں ویاپگ بھاو کے کلپنا ہوتی ہے واستو میں جو ایچھا ہے وہی پدارتا ہے جیسے جل میں درافتا ہوتی ہے اور اُسے ترنگ فین بود پودے ہوتی ہے سو سب جل روب ہے جل سے بھینا نہیں
تیسی ایچھا سے اُبجے پدارتا آتما روب ہے اُسے بھینا نہیں آتما دیش کال اور بسطوں کے پر اچھے سے رہیت ہے کےول شدھ چینمات رہ اور سروروب حکر ستھ ہوا ہے اور سب کا انوبھا بھی اسے میں ہوا ہے واستو شدھ ستھا مات رہے اس میں دویت کلپنا کیسے کہی ہے حراکشی جب کچھ دویت ہوتا ہے تو ایک بھی ہوتا ہے جو کچھ دویت ہی نہیں تو ایک کیسے کہی ہے جیسے دوب کی اپیکشہ سے چھایا ہے اور چھایا کی اپیکشہ سے دوب ہے
تو ایک کی اپیکشہ سے دویت کہتا ہے اس کالپنا سے جو رہیت ہے وہیت چینمات روب ہے اور جگت بھی اس سے بیتریت نہیں ہوا جیسے جل اور درابطا میں کچھ بھی نہیں تو ایسے ہی آتما اور جگت میں بھی کچھ بھی نہیں یہ رکشی نانا پرکار کے آرام بھی اسم درشتی آتے ہیں تو بھی اتما ستتا سم ہے جب سمجگ بود ہوتا ہے تو دویت بھی ادویت روب ہستا ہے کیوں کہ آگن سے دویت کلپنا ہوتی ہے واستوں میں دویت کچھ نہیں
آگن کے ابھاہ سے دویت کا بھی آبھا ہوتا ہے برمھور جگت میں کچھ بھی نہیں جیسے جل اور درابطا وائو اور سبندتا اور آکاش اور سننیتا میں کچھ بھی نہیں تو ایسے یہ آتما اور جگت میں کچھ بھی نہیں ہی رکشی دویت اور ادویت جاننا دوکھ کا کارن ہے دویت اور ادویت کے کلپنا سے رہیت ہونی کو ہی پرمپت کہتے ہیں درشتا روب جگت ہے وچد پرمانوں میں ستت ہے اور اس میں سمیروں آدیکس تھی ہے
بڑا آش چیری ہے کی مائا سے چد پرمانوں میں تریلو کیوں کی پرمپرا ستت ہے اسی سے اسم بھو روب اور مائا میں جیسے بھیج میں رکشی ستت ہے تیسے ہی چد پرمانوں میں جگت ستت ہے جیسے شاکھا پترا فول اور فلسے بھیج اپنا بھیجت و نہیں تاکتا اور اکھنڈ رہتا ہے تیسے ہی چد پرمانوں کے بھیتر جگت کا بھیستار ہے اور آنوت و بھاو نہیں تاکتا اکھنڈ رہتا ہے حراق شسی جیسے بھیج پرنام سے رکش بھاو کو پر آپتا ہوتا ہے تیسے ہی چد پرمانوں میں پرنام سے جگت روب ہوتا ہے
سب چد آنو کا کنچن روب ہے ایسے ایسے دکھائی دیتا ہے واستوں میں ندویت ہے نبیج ہے ننکور ہے نستول ہے نسکش میں ہے نہ کچھ اپ جا ہے نہ نشتو ہوتا ہے نہ آستی ہے نہ آستی ہے نہ s Есть ہے رکش تی یہ آن بھن ایسا یا ان اُدھائھی سمویدان کے باش سے اُدھائھی ہو کر بھاستہ ہے
جیسے بیچ سے برکشہ انان نے روپ ہو کر بھاستہ ہے تیسے ہی ایک آتما انیں کروپ ہو کر بھاستہ ہے نہ کچھ اُدھائھی ہوا ہے اور نمکتہ ہے ہیراکشاسی اس چید انوں میں کمل کی دندی کنائی تات سمیروں کنائی ستھل ہے جیسے کمل کی دندی کیوں تات سے سمیروں ستھل ہے تیسے چید انوں سے کمل کی دندی ستھل ہے اور درشہ روب ہے پر چید انوں درشہ اور منصہید کشد انڈیوں کا بشہی نہیں اس کارن تات سے بھی سکش میں ہے اور اس چید انوں میں اننت سمیروں آدیک ستھل ہے سو کیا روب ہے
جیسے آکاش میں سنیتا ہوتی ہے تیسے ہی آتما میں جگت ہے ہی راکشیسی جیس کو آتما کا بود ہوا ہے اس کو جگت سسوبتی کی نئی بھاستا ہے وہ آتما ستھتا ادوی طروب اور پرنام سے رہیت ہے اس میں مکت پوروش سداستیت ہے پر مارت سے جگت بھی برمنا روب ہے بھی نبھاو کچھ نہیں شریبہ سیشٹھ جی بولہ ہی رام چندرچے اس پرکار راجہ کے مکھ سے سنگر کرکٹی نے وان کے مرکٹی روب جو کے مارنے کی چپل تاتیاک کی اور بھی تر سے شیطل ہوگر بشرام پایا جیسے ورشا کال میں مورنی برسن نا ہوتی ہے
چندرمہ کو دیکھ کے چندرم انشک کمل پر فلیت ہوتے اور میکھ کے شبد سنگے بگلی گربہ باتی ہوتی ہے تیسے ہی راجہ کے وطن وچن سنگے کرکٹی پرمانند ہوئی اور پھر بولی بڑاش چری ہے بڑاش چری ہے ہی راجہن تم نے مہا پاوان وچن کہیں اسے میں نے تمہرہ ویمال بود دکھا اور عمرت سار اور سمرت سے پورنا شدھا اور راگت وش آدیک مل سے رہی تھے جیسے پورنیمہ کا چندرمہ شیطل عمرت سے پورنا اور شدھا ہوتا ہے تیسے ہی تمہرہ بود ہے ویوی کی جگت میں پود جہے جیسے چندرمہ کو دیکھ کے کملینی προفولیت ہوتی ہے
فولو سے مل کے وائیو سگندوان ہوتی ہے اور سوری کے ادائے ہونے سے سوری مکھی کمل προفولیت ہوتے ہے تیسے ہی سنتوں کی سنگتی سے بود دی سکھ پاتی ہے حراجن وحکون ہے جو دیپاک ہاتھ میں لیکر گڑھے میں گئے اور وحکون ہے جو دیپاک ہاتھ میں لیکر تم دیکھے تیسے ہی وحکون ہے جو سنتوں کی سنگتی کرے اور دکھی رہے سنتوں کی سنگتی سے سبھی دکھنشٹ ہوتے ہیں حراجن تم اس وان میں کس پروجن سے آئے ہو تم تو پوجنے یو کیا ہے راجہ بولے حراجشتی میرے نگر میں جو منوش شرہتے ہیں
ان کو ایک ویسو چکا بیادھی روگ لگا ہے اور اس سے بہت کشت پاتے ہیں اوشدی بھی ہم بہت کر رہے ہیں پر دکھ دور نہیں ہوتا ہم نے سنا ہے کہ ایک راکشسی جیو کو کشت دیتی ہے اور اس کا ایک منتر بھی ہے اس منتر کے پڑھنے سے نیبرت تہو جاتی ہے اس لئے اس تم سے راکشسی کو مارنے کے نمدت میں راکشسی کو بھی ریاترا کرنے نکلا ہوں جو بہت راکشسی تو ہی ہے تو ہمارا تیرا سماضگی ہو چکا ہے اس کو انگی کر کر کے پرانیوں کی ہنسا کرنا چھوڑا اور کسی کو کشتا نہ دے
راکشسی بولی حراجن کہا اب میں نے ہنسا دھرمکہ دیا کیا اور اب کسی جیو کو میں نماروں گی راجا بولی حراجشسی تم نے تو کہا کہ میں اب کسی جیو کو نماروں گی پر تیرا آہر تو جیو ہے جیو کو مارے بینا تیرے شرید کا نرباؤکہ کیسے ہوگا راکشسی بولی حراجن ہزار ورشر میں سماضحی میں سترحی اور جب سماضحی کھولی تب مجھک شدھا لکی اب میں پھر ہی مالائی کی پرورت کی کندرہ میں جا کر نشچل سماضحی میں جیسے مورتی لکی ہوتی ہے تیسے ہی ستتھ ہوں گی
اور جب سماضحی سے اتروں گی تب عمرت کی دھارنا میں بشرام کروں گی جب اس سے اتروں گی تب شرید کا تیا کر ہینسانہ کروں گی جس پر کار میں نے ہینسا دھرمکوں گی کنگی کار کیا تھا وہاں بھی تمسلوں ہیراجن مجھکو جب بڑک شدھا لکی تب اس کے نیوارن کی ارتھا میں ہی مالائی پرورت کے اترشکھر پر وان میں ایک سونے کی شلا کے پاس لوحے کے تھمکنائی جو کے ناش کے نمیتتتتب کرنے لکی اور جب بہت برشویتیت ہوئے تب برمھا جنے منو وانچت برمچ کو دیا تب میرے دو شرید ہوئے ایک آدھار بھن سوریا کی نائی
اور دوسرا پورے اشتک اور میں بیسوچی کا نام رکشہ سے ہوئے اُس شرید سے میں انیک جو کی بھیتر جاکہ اُن کو بھو جن کر دی رہی پر انتو برمھا جنے مجھ سے کہتا کہ جو گنوان ہوگے اور جو اوم منتر پڑھیں گے اُن پر تیرا بلنا چلے گا تو نیورت تا ہو جا بے گے ہی راجن اُسی منتر کا عبدش اب تم بھی انگی کار کرو اُس منتر کے پاٹ سے سب کے روگ نشت ہوگے برمھا جکا جو عبدش ہے اُس کو تم ندی کے تٹ پر جا کر اور پبیت رہو کر شگ رہی گراھن کرو اُس کے پاٹ سے تمہری پر جاکہ دکھا نشت ہو جا بے گا اِتنا کہکر
وصیشت جبولہ ہی رام چندرچے اِس پر کارجب اردراتری کے سمے رکشسی نے کہا تب راجا منتری رکشسی تینوں نکت ندی کے تیر پر گئے اور انہن نے ویترے کر کے آپس میں سرہد ہوئے جب تینوں پبیت رہو کر بیٹ ہے تب جو منتر رکشسی کو برمھا جنے عبدش کیا تھا وہی منتر بیسو چکھانے پریتی سنیوبت راجا کو عبدش کیا تب راجا نے کہا ہی محدری تو ہماری گروھ ہے اسے ہم کچھ پرارتھنا کرتے ہیں اسے انگی کار کر جو محاپ روش ہے ان کا سندر سرہد پنا بڑھتا جاتا ہے اور تمہر شریل بھی اچھا چاری ہے
اسے من کے ہرنے والے بھوشان وسترسنیوبت ستری کا سال لگو شریدھر کے کچھ کال ہمارے نگر میں نیواس کروں رکشسی بولی ہی راجا میں تو لگو آکار بھی دھروں کی پرنتو تم مجھے بھوچن نہ دے سکو کی جو لگو شریدھروں کی تو بھی میرا سبھا رکشسی کا ہے اس کو تربط کرنا سمان جنوں کین سمان نے جنوں کی نائی تو نہیں ہے جیسا کچھ شریدھ کا سو بھاو ہے سو سرشٹی پر ین تو تیسا ہی رہتا ہے انگی تھا نہیں ہوتا راجا بولے ہی قلیان سروپی نہیں تو ستری سمان شریدھر کے ہمارے نگر میں چل کر رہے
جو چور پاپی میری مندل میں آبے گے ویں ہم تجھے دیں گے اور تو انھیں ستری روب کو دیا کر کے رکشسی شریدھ سے ایکان تتھور لجا کر اتفا ہیمالے کی قندرہ میں جا کے بھوچن کرنا کیوں کے بڑے بھوچن کرنے والے کو ایکانت میں کھنا سکروپ ہے جب ان کو بھوچن کر کے تربط ہونا تب سو رہنا جب ندرہ سے جاگنا تب سمادھیں میں ستھی تھونا اور جب سمادھیں سے اترنا تفھر ہمارے پاس آنا ہم ترے نمیتت بندی جن ایک اٹھتے کر رکھیں گے ہم ان کو لجا کر بھوچن کرنا جو دھرما کے نمیتت ہے ہنسا ہے وہاں ہنسا پاپ روب نہیں اور جس کی ہنسا کرتا ہے اس کا مرن بھی نہیں بلکی اس پر دیا ہے کیونکی وہاں
پاپ کرنے سے چھٹتا ہے راقشاسی بولی ہے راجن تم نے یکتی صحید وچن کہے ہے اس سے میں سٹری کا شریدھر کے تمہرے ساتھ جلوں گی یکتی پوروک وچن کو سب کوئی مانتے ہے ہریو ہریو اوم صحنابوتو صحناب نکتو صحویریم کروا بہیں تیجس فیناب دیتمستو ماظ دویشا بہیں ہوں شنتی شنتی شنتی
شرید ستگر دیو وگوان کیجے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya